بال[1]

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - رواں، رونگٹا، مو، پشم، ریشہ (حیوان یا نباتات کے جسم کا)۔ "پودے کے کسی حصے پر بال یا کانٹے نہ ہوں۔"      ( ١٩٦٦ء، چارے، ٥٥ ) ٢ - وہ باریک خط یا شگاف جو شیشے چینی مٹی یا دھات وغیرہ کے برتن میں ٹھیس لگنے یا ٹکرانے سے پڑ جائے۔  پر اہل چیں کے فرق پہ زخم جدال ہے ثابت ہوا کہ کاسۂ چینی میں بال ہے    ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ٢١١:٧ ) ٣ - لکیروں کے وہ نشان جو دھات یا شیشے وغیرہ میں بے احتیاطی کے ساتھ استعمال کرنے سے پڑ جاتے ہیں۔ "نوکروں نے اکثر حقوں میں بال ڈال دیے تھے۔"    ( ١٩٤٥ء، سفرنامۂ مخلص، دیباچہ، ٩ ) ٤ - وہ دھاگا جس کے گرد مصری کی قلمیں جماتے ہیں۔ (ماخوذ : نوراللغات 542:1؛ جامع اللغات، 390:1) ٦ - بال کی طرح کا باریک خط جو بعض جواہرات کے اندر دکھائی دیتا ہے۔  در نجف کا ذکر مرے اشک کے حضور ہے اس میں بال رکھیے یہ لقمہ دین سے دور      ( ١٨٥٤ء، ریاض مصنف، ١٦٥ ) ٧ - گیہوں جو باجرا وغیرہ کا خوشہ، بالی۔ "دھان کی بالوں میں شبنم کے موتی پروئے ہوئے تھے۔"      ( ١٩٥٨ء، خون جگر ہونے تک، ٢ ) ٨ - ایک قسم کی بڑی جسیم مچھلی جو سمندروں میں پائی جاتی ہے۔ "ایک قسم کی مچھلی بال نام ہے اس کا طول قامت چار سو گز سے پانچ سو گز تک ہوتا ہے۔"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات اردو، ١٨٥ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت کا لفظ ہے اردو میں سنسکرت سے ہی ماخوذ ہے اور اصلی حالت میں ہی عربی رسم الخط میں لکھا جاتا ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ملتا ہے۔ ١٥٩١ء میں "رسالۂ وجودیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رواں، رونگٹا، مو، پشم، ریشہ (حیوان یا نباتات کے جسم کا)۔ "پودے کے کسی حصے پر بال یا کانٹے نہ ہوں۔"      ( ١٩٦٦ء، چارے، ٥٥ ) ٣ - لکیروں کے وہ نشان جو دھات یا شیشے وغیرہ میں بے احتیاطی کے ساتھ استعمال کرنے سے پڑ جاتے ہیں۔ "نوکروں نے اکثر حقوں میں بال ڈال دیے تھے۔"    ( ١٩٤٥ء، سفرنامۂ مخلص، دیباچہ، ٩ ) ٧ - گیہوں جو باجرا وغیرہ کا خوشہ، بالی۔ "دھان کی بالوں میں شبنم کے موتی پروئے ہوئے تھے۔"      ( ١٩٥٨ء، خون جگر ہونے تک، ٢ ) ٨ - ایک قسم کی بڑی جسیم مچھلی جو سمندروں میں پائی جاتی ہے۔ "ایک قسم کی مچھلی بال نام ہے اس کا طول قامت چار سو گز سے پانچ سو گز تک ہوتا ہے۔"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات اردو، ١٨٥ )